تحریر: عادل فراز
حوزه نیوز ایجنسی | شفاف انتخاب جمہوریت کی بقا اور تقویت کا سبب ہوتے ہیں۔ عوام کی رائے جمہوریت کا بنیادی ستون ہوتی ہے۔ عوام کے بغیر جمہوری حکومت کا تصور ہی ممکن نہیں۔ عوام اپنی مرضی کی حکومت منتخب کرتے ہیں اور وہ منتخب حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرتی ہے۔انتخابات کو آئینی دائرے میں منعقد کرانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن عوامی آراء اور جمہوریت کا بیک وقت محافظ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ادارہ کسی خاص پارٹی، نظریے اور اقتدار سے وفاداری کا پابند نہیں ہوتا، بلکہ اس کی ذمہ داری آئینی اقدار کے تحفظ کی ہوتی ہے۔لیکن جب انتخابات کی شفافیت زیر سوال ہو اور عوام کی آراء کو چرانے کے الزامات الیکشن کمیشن پر عائد ہورہے ہوں، ایسی صورت حال میں جمہوریت نہ صرف کمزور ہوتی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ الیکشن کمیشن پر ’ووٹ چوری‘ کے الزامات تو عائد ہوتے رہے ہیں، مگر ’ایس آئی آر‘ کے عمل نے ان الزامات کی توثیق کردی۔ ووٹر لسٹ کی تشکیل میں جس طرح من مانی کی گئی اور اقتدار مخالف افراد کے ووٹ کاٹے گئے، اس کی مثال ماضی میں کبھی نہیں ملے گی۔’ایس آئی آر‘ کے ذریعہ 13 کروڑ رائے دہندگان کے نام حذف کئے گئے، جس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو پہنچا۔ چیف الیکشن کمشنر کے جانب دارانہ عمل کے بعد تو اب ’ای وی ایم‘ کو ہیک کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہ گئی۔ پہلے ’ای وی ایم‘ کے اعتبار پر سوال اٹھتے تھے، اب تو الیکشن کمیشن کا ہی اعتبار ساقط ہوچکاہے ۔حزب اختلاف عدالت عظمیٰ سے از خود نوٹس لینے کے لئے اصرار کررہا ہے، مگر وہاں سے بھی انہیں مایوسی ہاتھ آئے گی۔ اس وقت احتجاج اور مزاحمت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ حزب اختلاف کو ’ڈرائنگ روم‘ کی سیاست چھوڑ کر سڑکوں پر اترنا ہوگا۔ تنہا راہل گاندھی کی مزاحمت سے انقلاب ممکن نہیں ہے۔
راہل گاندھی کافی عرصے سے انتخابات میں عدم شفافیت کا مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعدمسلسل ’ووٹ چوری‘ کے الزامات عائد ہوتے رہے۔ پہلے ’ای وی ایم‘ کے ذریعے ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھتا رہا۔ کانگریس اور دیگر سماجی شخصیات نے مسلسل یہ دعویٰ کیا کہ اس کو ہیک کیا جاسکتا ہے۔ یہ معاملہ عدالت عظمیٰ تک پہنچا، مگر ’ای وی ایم‘ کو برقرار رکھا گیا۔کانگریس اور مختلف اہم شخصیات نے اپنے دعوے پر دلائل بھی پیش کئے، اس کے باوجود عدالت عظمیٰ نے ’ای وی ایم‘ کو قابل اعتماد قرار دیا۔ کانگریس نے ’چوکیدار چور ہے‘ کا نعرہ دیا تھا، مگر ’چوکیدار کی چوری‘ کو آئینی جواز فراہم کرنے کا کام تو آئینی ادارے ہی کررہے ہیں۔سب سے پہلے آئینی اداروں کو سنگھ سے پاک کرنا ہوگا، لیکن یہ آسان عمل نہیں ہے۔ جب تک سنگھ کے لوگ آئینی اداروں پر قابض ہیں، شفافیت ممکن نہیں۔گیانیش کمار کے بارے میں کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری ججی تھامسن نے جو دعویٰ کیاہےاس پر بھی توجہ ہونی چاہیے۔ان کے مطابق وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے خواہش مند تھے ۔اگر یہ درست ہے تو گیانیش کمار کے بی جے پی اور آرایس ایس سے تعلق کی رازداری کو بھی کنگھالناہوگا۔
23ستمبر 2026 کو انڈین ایکسپریس کے صفحۂ اول پر شائع رپورٹ نے ہندوستان کی سیاست میں ہنگامہ برپاکردیا۔ رپورٹ نے بیک وقت تین آئینی اداروں کے چہرے سے نقاب اٹھادیا، جن میں حکومت کے ساتھ الیکشن کمیشن، اورعدالت عظمیٰ بھی شامل ہیں۔ رپورٹ نے واضح طور پر کہا کہ تین رکنی الیکشن کمیشن میں تمام اہم فیصلے یک طرفہ کئے جارہے ہیں اور دو الیکشن کمشنروں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دس مہینوں میں دو الیکشن کمشنروں، سکھ بیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، نے چودہ مرتبہ ریکارڈ پر اپنا اعتراض درج کیا۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فیصلوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے فیصلوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور بعض فیصلوں کو غیر آئینی قرار دیا۔ انہوں نے اہم فیصلوں کے بارے میں خود کو اندھیرے میں رکھنے، نئے ووٹرس کا نام شامل کرنے، پرانے ووٹرس کے نام حذف کرنے جیسے امور پر ریکارڈ میں اپنا اعتراض درج کیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اقتدار کی خوشنودی کے لئے غیر آئینی فیصلے کررہے تھے، جن پر دونوں الیکشن کمشنروں کی منظوری اور مرضی شامل نہیں تھی۔ اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد کانگریس سمیت تمام سیاسی اور سماجی تنظیمیں اور شخصیات مستقبل قریب میں ہونے والے تمام انتخابات کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں، مگر یہ مطالبہ کافی نہیں ۔ کیونکہ گیانیش کمار کے چیف الیکشن کمشنر رہتے ہوئے جن ریاستوں میں انتخابات ہوئے ہیں، وہاں بھی شفافیت نہیں رہی ہوگی۔ خاص طور پر بہار اور بنگال کے انتخابات پہلے ہی سوالات کے گھیرے میں ہے۔اس لئے ان کے عہدے پر رہتے ہوئے جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں، انہیں غیر آئینی قرار دیا جانا چاہیے۔ کیونکہ اگر تینوں الیکشن کمشنر مہینوں تک آپس میں مشورہ نہ کررہے ہوں تو چیف الیکشن کمشنر کو یک طرفہ فیصلے کرنے کا حق کس نے دے دیا؟ لہٰذا اس کی پوری جانچ ہونی چاہیے کہ کتنے عرصے تک تینوں الیکشن کمشنروں کے درمیان بیٹھک نہیں ہوئی اور کب سے گیانیش کمار یک طرفہ فیصلے کررہے تھے۔خاص طور پر فارم 6 میں جس طرح غیر آئینی طور پر تبدیلیاں کی گئیں، اس کی بنا پر گیانیش کمار کو مستعفیٰ ہوجانا چاہیے اور ان کے خلاف آئین کے دائرے میں کارروائی ہونی چاہیے۔
الیکشن کمشنر کے عہدے کی رازداری، ایمانداری اور شفافیت پر سوال اٹھنے لگے تو سب سے پہلے بی جے پی ان کے بچاؤ میں آگے آئی۔ یعنی جس پارٹی کو غیر آئینی طریقے سے اقتدار میں لانے کا الزام الیکشن کمشنر پر عائد کیا جارہا ہے، وہی پارٹی ان کے بچاؤ میں پریس کانفرنس کررہی تھی۔ پریس کانفرنس کرکے صفائی تو الیکشن کمیشن کو دینی چاہیے تھی مگر ہوااس کے برعکس!انڈین ایکسپریس میں شائع رپورٹ کے خلاف الیکشن کمیشن نے بھی بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ تمام فیصلے جمہوری طریقے سے لئے گئے۔ یہ بیان مضحکہ خیز تھا، کیونکہ جب دونوں الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فیصلوں کو یک طرفہ اور آئین مخالف کہہ رہے ہوں تو الیکشن کمیشن کی وضاحت چہ معنی دارد؟مشترکہ بیان جاری ہونے کے بعد تو دونوں الیکشن کمشنربھی گیانیش کمار کے جرم میں شریک ہوجاتے ہیں۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کو مسترد کرنے کے لئے سب سے پہلے تو تینوں الیکشن کمشنرز کو مشترکہ پریس کانفرنس کرنی چاہیے تھی۔ اس کے بعد فوری طور پر انڈین ایکسپریس پر غلط رپورٹ اور مشتبہ حقائق شائع کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کروانا چاہیے تھا۔ مگر الیکشن کمیشن نے ایسا نہ کرکے ایک وضاحتی بیان جاری کرکے الزامات سے دامن بچانے کی کوشش کی۔الیکشن کمیشن نے جاری بیان میں کہا کہ ایس آئی آر کے سلسلے میں سبھی فیصلے اتفاق رائے سے لئے گئے تھے۔ تاہم اب تک الیکشن کمیشن نے پریس کانفرنس منعقد کرکے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔
موجودہ صورت حال میں نئی نسل کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے ۔انہیں اپنے آئینی حقوق اور جمہوریت کی بقاکے لئے مزاحمت کرنی ہوگی ۔ ہندوستان کو ایک بڑی عوامی تحریک درکار ہے، جس کے آثار نظر آرہے ہیں۔عوامی تحریک کے بغیر نہ تو آمریت ختم ہوگی اور نہ اقتدار کے نشے میں دُھت شرپسند عناصر کے عزائم کو دبایا جاسکے گا۔ آج ہندوستان آئین کے بجائے ’بلڈوزر کلچر‘ اور ’ٹھوک دو‘ کی سیاست پر گامزن ہے۔ وزیر اعظم مودی سرمایہ داروں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن چکے ہیں۔ انتظامیہ متعصب اور جانب دار ہوتا جارہا ہے۔ ملک کی ترقی کے بجائے ’ہندو مسلم‘ نفرت کو فروغ دے کر اقتدار ہتھیانے کا عمل عروج پر ہے۔نئی نسل کو تعلیم یافتہ بنانے کے بجائے اندھ بھکت بنانے کے لائحۂ عمل پر کام کیا جارہا ہے۔ اگر نئی نسل تعلیم یافتہ نہیں ہوگی تو اس کو ’اندھ بھکتی‘ کے راستے پر جانے سے کوئی نہیں بچاسکتا۔ لہٰذا نئی نسل کو بیدار ہوکر میدان عمل میں آنا ہوگا۔ اقتدار اور آمریت کے خلاف مزاحمت ہی جمہوریت کو بچاسکتی ہے۔










آپ کا تبصرہ